فرقہ کسی بھی مذہب، جماعت (سی
اسی یا مذہبی ) یا گروپ کا ذیلی حصہ ہوتا ہے جو اپنے الگ خیالات و نظریات کی وجہ سے الگ جانا جاتا ہے ۔اللہ تعالی فرماتا ہے"واعتصموا بحبل الله جميعا ولا تفرقوا،، اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔واضح رہے کہ اسلام کے بنیادی عقائد اور عبادات پر اکثریت کا اتفاق ہے مگر فروعی اختلافات کی شدت نے نفاق کے بیج بو دیئے ہیں تفرقہ کے خلاف موثر ترین ڈھال قرآن مجید ہے آہ افسوس صد افسوس!آج جو تفرقہ سب سے زیادہ اور سب سے خطرناک ہے وہ دین اسلام کے نام پر ہے خانہ جنگی کے ذریعے تباہی پھیلائ جا رہی ہے اغیار مسلمانوں کے وجود کو ختم کرنے کے درپے ہیں ملحدانہ اقدامات کے ذریعے عقائد کو متزلزل کیا جا رہا ہے لبرل اور سیکولر ذہن کے حامل افراد بڑے پیمانے پر دین کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کر رہے ہیں مشہور مفسر ابو العالیہ فرما تے ہیں "حب دنیا،اقتدار کی چاہ اور سلطنت کی محبت سے تفرقہ ظاہر ہوا ۔تفرقہ کی بڑی وجہ ضد ہے موجودہ دورمیں ۔غلو بھی تفرقہ بازی کا سبب ہے اللہ تعالی نے دین میں غلو سے منع فرمایا ہے "يا أهل الكتاب لا تغلوا فى دینکم ،، اے اہل کتاب دین میں حد سے زائد نہ بڑھو ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "ایاکم والغلو فی الدین، ،دین میں غلو سے بچو۔ اس سلسلہ میں لوگ غیر شعوری کیفیت میں مبتلا ہیں اس طرح ہوتا ہے کہ لوگ دین کی خدمت سمجھ رہے ہوتے ہیں مگر در حقیقت وہ دین کا نقصان ہوتا ہے اتنا ضرور ذہن نشین رہے کہ اختلاف رائے کا نام تفرقہ نہیں ۔اختلاف رائے تو ایک فطری اور طبعی عمل ہے جس کو نہ مٹایا جا سکتا ہے اورنہ ہی اس کو مٹانا اسلام کی منشاء ہے تفرقہ کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ کلام الہی سے دوری ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ تحمل پیدا کیا جائے عوامی سطح پر بھی اور علماء کی سطح پر بھی ۔دیگر مکاتیب فکر کی آراء کا بھی احترام کیا جائے دین کو جامع تصور حیات سمجھا جائے ۔ جتنی ہم اپنے مخالف گروہ سے نفرت کرتے ہیں اس سے کہیں زیادہ ہمیں کفر، مادہ پرستی اور الحاد سے نفرت کرنی چاہیے ۔دین کے وسیع دائرے کو چھوڑ کر ایک محدود انداز میں عمل کرنے سے تفریق پیدا ہوتی ہے جب بدعات اور غلط رسومات کے خلاف کام کریں تب بھی قرآنی ترتیب کو ملحوظ خاطر رکھیں سب سے پہلے حکیمانہ انداز اختیار کریں ۔پھر موعظت (نرم وعظ)سے ،پھر اگر نوبت مجادلہ تک جا پہنچے تو تب بھی احسن انداز سے کریں۔ اگر بنظر غور مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی وعظ نبی و رسول کے وعظ جتنا نرم نہیں ہوسکتا اور کوئی غلط شخص فرعون سے برا نہیں ہو سکتا باوجود اس کے اللہ نے حضرت موسی علیہ السلام کو قول لین کے ذریعے فرعون کو دعوت دینے کی تلقین کی ۔قرآن کریم کے تذکیری پہلو کو عوام میں بیان کیا جائے ۔کتاب و سنت کا کما حقہ نفاذ کیا جائے فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے مخلص قیادت بھی ضروری ہے حقیقی زندگی میں مذہبی ہونے سے ہی فرقہ واریت کے عفریت پر قابو پایا جا سکتا ہے اسلام کے عادلانہ نظام کو اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے مطابق نافذ کرنا ہو گا رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری خطبہ پر عمل کرنا ہو گا ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرنا ہو گا مذہب کو ہم آہنگی کے لیے استعمال کرنا ہو گا نہ کہ نفرت کے لئے ۔تمام متنازعہ مذہبی مواد قبضہ میں لینا ہو گا تعلیم و ترقی پسند تحریک کو فروغ دینا ہوگا ۔مفکر اسلام، حضرت جسٹس پیر محمد کرم شاہ صاحب الازہری رح نے فرقہ واریت کے خاتمے اور اتحاد کے قیام کے لئے پانچ نکاتی فارمولا پیش فرمایا (1۔اتحاد کے داعی کواپنی دعوت کی سچائی پر پختہ یقین ہو 2۔زیادتی کرنے والے فریق کو روکا جائے 3۔ھر ایک فریق کو وسیع الظرف ہونا چاہئے 4۔کسی بھی مکتبہ فکر کے لٹریچر میں اگر کوئی ایسی عبارت ھو جس سے تقدس نبوت پر حرف آتا ہو اسے حذف کر دینا چاہیے 5۔فرزندان اسلام پر کفر و شکر کے فتوے نہ لگائے جائیں ۔)بلا شبہ اسلام ہر قسم کی انتہا پسندی کی نفی کرتا ہے حتی کہ اسلام بزور طاقت دین قبول کروانے سے بھی منع فرماتا ہے ۔فرقہ واریت سے درج ذیل نقصانات رونما ہوتے ہیں ایمان کی کمزوری۔ کفار کا رعب طاری ہو جا ئے گا ۔عزت کا جنازہ نکل جائے گا ۔مسلمانوں کا رعب ختم ہو جائے گا ۔مسلمان منتشر ہوجائیں گے ۔کفار کا غلبہ ہوجائے گا ۔دشمن طاقتور ہو جائے گا ۔اسلام کا رعب ختم ہوجائے گا ۔
از قلم ۔۔۔۔۔نفیسہ چوہدری

