رمضان ، قرآن اور پاکستان

0

 

رمضان ، قرآن اور پاکستان"



خالق کائنات مالک ارض و سماء خلاق لم یزل وحدہ لا شریک ذات نے قرآن پاک کے اندر ارشاد فرمایا

شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن

رمضان کا ہی مبارک مہینہ ھے جس میں قرآن پاک کو نازل کیا گیا ،،،

اور پاکستان بھی اسی رمضان کے اندر قیام عمل میں آیا۔

رمضان ،قرآن اور پاکستان کا ایک گہرا تعلق ھے اور اس تعلق کی وجہ سے ان تینوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا ھے۔جس طرح قرآن کی حفاظت کے لیے قربانیاں دی گیئں اسی طرح جس ملک کو قرآن کے نام پہ بنایا گیا اور جس ملک میں قرآن کے اصولوں کو مکمل طور پر نافذ کرنا تھا اس ملک کے قیام اور استحکام کے لیے بھی بےشمار قربانیوں کے نذرانے پیش کیے گئے ۔اللہ رب العالمین کے کلام پاک کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے رحمۃ للعالمین کو جن مشکل مراحل سے گزرنا پڑا ، مختلف طرح کی تکلیفوں ، مصیبتوں ، پریشانیوں کو برداشت کرنا پڑا ، کبھی مکہ کی گلیوں میں شاعر ، کاہن ، جادوگر ، پاگل کہا گیا ، کبھی عکاظ ، ذوالمجنہ ، اور مکہ کے بازاروں میں پورے دس سال جاکر لوگوں کے طعنوں کو برداشت کرنا پڑا ، کبھی شعب ابی طالب میں جاکے تین سال تک درختوں کے پتے کھا کے گزارا کرنا پڑا اور کبھی طائف کے بازاروں میں جا کے آوارہ کتوں سے پتھر کھانے پڑے اور کبھی میدان کربلا میں اپنے پورے خاندان کو کربلا کی تپتی گرم ریت پہ قربان ہوتے دیکھنا پڑا ، بالکل اسی طرح پاکستان کے قیام و استحکام کے لیے بھی مسلمانوں کو بے شمار قربانیوں کے نذرانے پیش کرنے پڑے ، لاکھوں لوگوں نے پاکستان کی خاطر اپنی جانوں ،اپنی جائیدادوں ، اپنے بچوں کو قربان کیا ، کتنی بیویوں کو بیوہ ہونا پڑا ، کتنی بہنوں کو اپنی عزت کی حفاظت کی خاطر کنوؤں میں چھلانگ لگانی پڑی ، لیکن پھر بھی قرآن اور پاکستان کا نام لیتے رھے،

                                                                میرے آقا کریم علیہ التحیۃ والتسلیم نے فرمایا کہ میری امت پہ ایک ایسا زمانہ آۓ کا ، قرآن صرف رسم کے طور پہ رہ جاۓ گا ، آج کا وہ دور ھے کہ ہم نے قرآن کو صرف رسم کے طور پہ رکھا ہوا ھے جب کوئی مریض مر نہ رہا ہو تو اس وقت سورہ یسین کی تلاوت کروائی جاتی ھے اور جب کسی کو بد نظر لگ جاے تو سورہ فلق اور الناس کو پڑھ کے دم کیا جاتا ھے ، مطلب آج قرآن کو صرف مارنے اور برکت حاصل کرنے کے لیے رکھا گیا ، ہماری عدالتوں کے فیصلوں میں قرآن نظر نہیں آتا ، ہمارے بازاروں کی تجارت میں قرآن نظر نہیں ، ہمارے گھروں کے ماحول کے اندر قرآن نظر نہیں آتا ، ہماری سیرت و صورت ، ظاہر و باطن ، رہن سہن ، میل جول اور سیاسی ،سماجی ، اخلاقی اور معاشرتی معاملات کے اندر قرآن نظر نہیں آتا ،

اور بالکل اسی طرح میرے آقا کریم علیہ التحیۃ والتسلیم نے فرمایا کہ مسلمان صرف نام کا مسلمان رہ جاے گا ، کیا مسلمان جھوٹ بول سکتا ھے؟ رشوت خور ہو سکتا ھے ؟سود خور ہو سکتا ھے؟  زناکار ہو سکتا ھے؟ شرابی ہو سکتا ھے ؟ جواب نہی میں ملتا ھے، تو پھر ایسا کیوں ہو رہا ھے ؟

                                             جب قرآن رسم کے طور پہ رہ گیا اور مسلمان صرف نام کے طور پہ رہ گیا تو کیا پاکستان ، پاکستان ہی رہ گیا،

                                        مگر آج بھی ایسے لوگ موجود ھیں جن کی وجہ سے قرآن ، مسلمان اور پاکستان کی وہی عظمت و شان باقی ھے ، اور ان شاء اللّٰہ ایسے لوگ قیامت تک رہیں گے ، قرآن بھی رہے گا اور پاکستان بھی رھے  ، مگر آج پاکستان کی حفاظت و استحکام کی خاطر قرآن کے اصولوں کی طرف رجوع کرنا پڑے گا ، عدالتی نظام ، سماجی نظام ، اخلاقی نظام، معاشی نظام ، سیاسی نظام اور گھریلو نظام کے اندر قرآن کے بتاۓ گئے اصولوں کو نافذ کرنا پڑے گا،

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہوکر

اور ہم خوار ہوے تارک قرآں  ہوکر

ہم لائے ھیں طوفان سے کشتی نکال کر

اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کر

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)