فرقہ واریت (قسط نمبر ۔١)

0

 فرقہ واریت (قسط نمبر ۔١)



دورِ حاظر میں جہاں اور بہت سے ستم ملاحظہ کرنے کو ملتے ہیں وہاں ایک ستم ظریفی فرقہ واریت کا تکلیف دہ فتنہ بھی ہے۔

یہ چیز شاید فتنہ نہ ہوتی مگر ہمارے حد سے گزر جانے کے رویے نے اسے ایک ایسے دہانے پہ لا کر کھڑا دیا کہ آج جب عالمِ اسلام باقی معاملات میں سوچ و بچار سے گزر رہا ہے اس موضوع نے بھی دل شکن حالات سے دوچار کر دیا۔

سب سے پہلے ہم اس بات کو سمجھنا ضروری سمجھیں گے کہ فرقہ واریت ہے کیا؟

اگر کوٸی بندہ فرقہ واریت کے معاملہ میں سنجیدہ ہے تو وجہ کیا ہے؟


اسلام کا بنیادی اصول و قوانین اور قواٸد و ضوابط تین ہیں۔

جن کی بنیاد پر تکمیلِ ایمان ہوتی ہے۔

عقیدہ توحید۔عقیدہ رسالت۔عقیدہ آخرت 

دو اصول وہ ہیں جو حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں شامل کیے جاتے ہیں۔

تعظیم و تکریمِ صحابہ۔حُبِّ اہلِ بیعت 

یہ پانچ عقاٸد ایسے ہیں جن پر ہر اہلِ ایمان کا یقینِ کامل ہونا بلکہ اس پہ کاربند رہنا بہت ضروری ہے۔


میرے قارٸین سے چند سوالات ہیں۔

انکا جواب دے دیجیے۔پھر سمجھنا آسان ہوجاٸے گا کہ فرقہ واریت یا پھر تفرقہ بازی ہے کیا اور کیوں ہے؟


عقیدہ توحید ورسالت اور آخرت پہ سب کا یقین ہے 

کیونکہ یہ بنیادی عقاٸد ہیں جو آپکو داٸرہ اسلام میں داخل کرتے ہیں 

دو عقاٸدہ جو اوپر مذکور ہیں وہ حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں شامل کر لیے گٸے۔

اب اللہ پاک قرانِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے 

اطیعوا اللہ و رسولہ 

یعنی اطاعت کرو اللہ اور اسکے رسول کی۔

یعنی دونوں چیزیں جہاں بھی آٸی ایک ساتھ آٸی۔

ایک نقطہ تو یہ ہوگیا 

دوسرا یہ کہ 

وما ینطق عن الھوی 

یعنی اللہ کا نبی اپنی مرضی سے کلام نہیں کرتا بلکہ جو اللہ کیطرف سے وحی ہوتی وہی کہتا۔

سادہ الفاظ میں زبانِ مصطفی ﷺ در حقیقت زبانِ خدا ہے۔

اب جب مزید دو عقاٸد زبانِ مصطفی ﷺ کے ذریعے شامل کر لیے گٸے تو ان پہ کاربند رہنا انکا احترام کرنا لازم ہوگیا۔


اب بتاٸیے۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!

کوٸی بھی اہلِ ایمان منبر پہ براجمان ہوجاٸے اور واضح یا ڈھکے چھپے الفاظ میں صحابہ کو لعن طعن کرنا شروع کردے ازواج مطہرت جنہیں قران نے مومنین کے ماٸیں کہا ہے۔انکے خلاف زبان درازی کرے اور یہی نہیں اسے اپنا مذہبی حق سمجھے مزید یہ کہ یہ سارے ستم کرنے کے بعد خود کو معصوم اور مظلوم قرار دے۔

اور ہمارے یہاں لبرل طبقہ اس ظلم کے خلاف ایکشن لینے والوں کو فرقہ واریت کو ہوا دینے کا مجرم قرار دیدے۔

تو یہ کیسا انصاف ہے؟ 

کہاں کا انصاف ہے؟

اس بندے کے ایمان کی کیا گارنٹی ہے آپکے پاس جس نے شریعتِ مطہرہ اور حدیثِ مبارکہ کی حد بندی کو پامال کیا اور ڈنکے کی چوٹ پہ کیا۔

یہ ایک موضوع تو واضح ہوا۔نہ واضح ہو تو بارہا پڑھیے امید ہے ساری گرہیں کھلنے لگیں گی ۔

دوسرا موضوع ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!

قران کہتا ہے جب تم اپنی جانوں پر ستم کر لو تو میرے نبی مکرم کی بارگاہ میں آجاٶ توبہ کرو پھر لازم ہے کہ میرا محبوب بھی آپکی سفارش کرے یعنی آپکے لیے استغفار کرے تو تم اللہ کو ضرور پاٶ گے بخشنے والا مہربان۔


اب قران قیامت تک کے لیے ہے

اس پر تو سب کا آنکھیں بند کر کے یقین ہے ۔

میرا خیال ہے کہ ہمیشہ زندہ کی بارگاہ میں آیا جاتا ہے۔جو موجود ہو۔سنے، سمجھے آپکو دیکھے وہی آپکی سفارش کرسکتا ہے۔

تو گویا ثابت ہوا کی قیامت تک آنے والے ہر بندے نے بخشش مانگنے کے لیے جانِ کاٸنات کی بارگاہ کا رخ کرنا ہے ۔

جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ عظیم ہستی اپنے روضہ اقدس کے اندر زندہ ہے۔

اب جو بندہ انکے حاضر و ناظر اور زندہ ہونے پر دلیل طلب کرتا ہے۔

وہ قران کی احکام کو جھٹلا رہا ہے۔

اور پھر اسکے بعد وہ کہتا ہے میں نے کیا کیا ہے؟ 

ہم پہ الزام لگاٸے جاتے ہیں۔ہم بھی اسی اللہ اور رسول کو مانتے ہیں۔

واصف علی واصف کا بڑا خوبصورت جملہ ہے کہ 

جنکو تسلیم کر لیا جاٸے انکی تحقیق نہیں کی جاتی۔

یہ جملہ کہیں نہ کہیں قران سے لیا گیا ہے۔

اور جب بندہ حاضر و ناظر،علمِ غیب، نورو بشر وغیرہ کی بحث میں الجھا رہے اور پھر ثابت یہ کرنا چاہے کہ وہ حق پہ ہے۔یہ ستم نہیں تو کیا ہے۔

یہ کیسا ایمان ہے جسمیں قران کے واضح احکامات کے باوجود شکوک و شہبات کو عُنصر پایا جاتا ہے۔

آپ ان تمام معاملات کی گہراٸی میں اتر کر دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ جس فرقہ واریت کا الزام لگا کر،آزادی راٸے اور اپنے حقوق کے استعمال کے گمان میں ہم اللہ کی حدود کو پامال کیے جارہے ہیں وہ دراصل ہمارا وہ خسارہ ہے جس سے ہم خود بھی واقف نہیں۔

اسلیے فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ 

جو بنیادی عقاٸد اوپر بتادیے گٸے ان پہ کاربند ہوجاٸیے۔

اللہ کے محبوب کی تحقیق چھوڑ دیجیے فرقہ واریت کا فتنہ اپنی موت آپ مر جاٸے گا۔

ورنہ وہ لوگ جو محبت میں تنقید نہیں کرتے۔حدود کو پامال نہیں کررہے۔اسلام کو عقل سے نہیں بلکہ عشق سے پڑھ رہے ہیں وہ کبھی بھی برداشت نہیں کرینگے کہ اسلام اور قرانی احکامات کی اسقدر تردید کی جاٸے۔


                                                                                 (جاری ہے)

از قلم ۔۔۔۔۔۔۔نفیسہ چوہدری

Tags

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)