"خیر و شر کا ایک پہلو! سوشل میڈیا
آج پوری دنیا جدید سائنس ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کی وجہ سے گلوبل ویلج بن چکی ھے ، دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھ کہ سوشل میڈیا کے زریعے اپنے پیاروں کو خوشی اور غمی کی خبروں سے آگاہ کیا جا سکتا ھے۔اور کسی چھوٹے سے خطے میں رونما ہونے والا واقعہ چند لمحوں میں پوری دنیا تک پہنچایا جاسکتا ھے۔
👈 کچھ عرصہ پہلے پرنٹ میڈیا یعنی اخبارات،رسالے وغیرہ کا دور تھا پھر اس کے بعد الیکٹرانک میڈیا یعنی ریڈیو، ٹیلی ویژن وغیرہ کا راج آیا مگر ترسیل و مواصلات کے ان ذرائع سے ایک عام انسان کو کوئی خاطر خواہ فائدہ نہ ہوا کیونکہ ان ذرائع سے اس کو اپنے خیالات سے آگاہ کرنے اور درپیش مسائل کی نشاندہی کا موقع نہ دیا گیا۔
👈 پھر جب سائنس اور ٹیکنالوجی نے مزید ترقی کی تو سوشل میڈیا یعنی فیسبک ، وٹس ایپ، ٹوئٹر، یوٹیوب وغیرہ وجود میں آیا اور اس نے پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا دونوں کی اہمیت کو کم کردیا۔
👈 سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم ھے کہ جس کے زریعے ہر خاص و عام انسان جس وقت جہاں سے چاہے اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکتا ھے۔اور اپنے اوپر ہونے والی زیادتی و ظلم سے دوسرے لوگوں کو آگاہ کرسکتا ھے۔
👈خیر و شر کا ایک پہلو سوشل میڈیا ھے ، مگر افسوس صد افسوس کہ آج کی اکثریت نوجوان نسل نے شر کے پہلو کی طرف سمت اختیار کرلی۔آج کا نوجوان کہ جسے اقبال نے خودی کا درس دیا تھا اس نے صرف ٹائم پاس کی حد تک سوشل میڈیا کے ساتھ تعلق رکھا۔وہ نوجوان جو تعمیر ملت کا معمار تھا اس نے اپنے رب کے ساتھ رشتہ جوڑنے کی بجاۓ سوشل میڈیا سے ایسا رشتہ جوڑا کہ ساری ساری رات غلاظت بھری چیزوں کو دیکھنے میں مصروف رہا مگر صبح اٹھ کہ دو منٹ کے لیے رب کی بارگاہ میں کھڑا ہونا نصیب نہ ھوا۔آج سوشل میڈیا کے غلط استعمال نے انسان کے دل سے خوف خدا کو نکال پھینکا اور آنکھوں سے شرم و حیا کی چادر کو اتار پھینکا۔
👈آج اگر غور کیا جاۓ تو کتنا شر اسی سوشل میڈیا کی وجہ سے برپا ھے۔حضور ضیاء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللّٰہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ قوموں کی بقاء کی جنگ میدان جنگ میں نہیں بلکہ کلاس رومز میں ہوتی ھے کہ جہاں پہ ان کی تربیت اور ٹریننگ کیجاتی ھے میدان جنگ میں تو صرف جنگ کے نتائج سامنے آتے ھیں۔
مگرسید قاسم علی شاہ اس کے اندر مزید اضافہ کرتے ہوے کہتے ھیں کہ آج ہم اس دور میں جا چکے ھیں کہ جہاں قوموں کی بقاء کی جنگ سوشل میڈیا پہ لڑی جاتی ھے۔آج ہر آۓ روز نئے نئے واقعات دیکھنے کو ملتے ھیں، نئے نئے فتنے اٹھتے ہوئے نظر آتے ھیں ، آج پڑھے لکھے طبقوں کی طرف سے سوشل میڈیا پہ پھیلتا ہوا فساد نظر آتا ھے۔۔اور اس فتنہ و فساد کی اصل وجہ سوشل میڈیا پہ طرز تحریر میں بے احتیاطی اور اندا تکلم میں بے اعتدالی ھے۔اگر احتیاط اور اعتدال کے دامن کو تھام کے رکھا جاۓ تو پھر اس فساد کو جڑ سے اکھاڑ کے پھینکا جا سکتا ھے۔
👌کسی سائل نے کیا خوب سوال کیا تھا کہ
کیف یمکن لی ان احفظ القرآن فی اقل من عام؟
میرے لیے کیسے ممکن ھے کہ میں ایک سال سے کم عرصے میں حفظ قرآن کروں۔
تو جو جواب ملا وہ سونے سے لکھنے کے قابل ھے کہ۔
احملہ بقدر ما تحمل الجوال فی یدک۔
تو قرآن کو بھی اتنی دیر اپنے ہاتھ میں رکھ کہ جتنی دیر موبائل کو تو اپنے ہاتھ میں رکھتا ھے پھر تو ایک سال سے بھی کم عرصے میں حافظ قرآن بن جاۓ گا۔
👈 آج اگر سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کیا جاۓ تو ہر شعبے کے اندر علم کے چھپے ہوۓ خزانے سوشل میڈیا سے تلاش کیے جا سکتے ھیں ۔تحقیق شدہ اسلامی مواد کو شئیر کرنا جس سے کسی اور کا بھلا ہوسکے۔مظلوم کے اوپر ہونے والے ظلم سے حکام اعلیٰ کو آگاہ کیا جا سکتا ہے، ملک کے اندر غلط کاموں کو دیکھ کر ان غلط کاموں کے خاتمے کے لیے اپنی آواز لاکھوں لوگوں تک پہنچا سکتے ھیں۔اور ملک و قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ھیں۔
🤲اللہ کریم ھمیں سوشل میڈیا کو مثبت استعمال کرکے مفید بنانے کی توفیق عطا فرماۓ۔
