اللہ سے تعلق (اختتام)
تو آج ہم اس موضوع کو سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں یہ ایک ایسا موضوع ہے جسے جتنا بیان کیا جاۓ اسکے اسرارو رموزخود کُھل کر سامنے آتے ہی چلے جاتے ہیں
ایسا بندہ جس سے بہت زیادہ لوگ میل ملاپ نہیں رکھتے "پاگل"جھلا سمجھتے ہیں آپ سکے پاس بیٹھ جاتے ہیں اسے احساسِ الفت اُنسیت دلاتے ہیں اسکی ذو معنی گُفتگو سنتے جاتے ہیں اور ساتھ ساتھ اپنے رب سے محوِ گُفتگو ہیں
تو یہ اللہ سے مضبوط تعلق ہونے کی دلیل ہے
فقط اللہ کی رضا کے لیے کسی کو ایک گلاس پانی پلانا بھی اللہ سے تعلق ہے
ایک دانشور کہتا ہے
کہ بڑا انسان وہ ہے جسکی محفل میں بیٹھنے والا کوٸی شخص بھی خود کو چھوٹا نہ سمجھے
جی ہاں ۔۔۔۔۔!
بالکل اسی انداز سے مَسند نشیں ہونابھی اللہ سے تعلق ہے
"شاہ کاکو" ایک بزرگ کا نام ہے وہ گزر رہے تھے راستے میں ایک رقاصہ کو ناچتے دیکھا وہیں رُک گٸے،ناچ دیکھنے لگے یکایک دل کی کیفیت بدل گٸی رگِ ہاشمی نے جوش مارا اور بولے
"مانگو آج کیا مانگتی ہو"
آج جو بھی مانگو گی ملے گا
یہ سُنکر وہ ہنسنے لگی
نوٹ۔۔۔۔۔۔!!اب یہاں پر ایک بزرگ کی کیفیت ایک ناچنے والی کو دیکھ کربدل جانا
قابلِ غور ہے اب ہم اعتراض کرینگے ہم کہیں گے وہ کیسا بزرگ ہے عجیب اللہ والا ہے
ناچ دیکھ کر استغفار نہیں کرتا بلکہ کیفیت بدل جاتی ہے
تو حضور یہی بات ہے دراصل آپکو اللہ کا تعلق
سمجھانے والی
اب اگر بات کا ظاہری رُخ دیکھنے کی بجاۓ ہم اس کیفیت کی وجہ تک پہچ گٸے تو پھر یہ اللہ سے ایک الگ سا تعلق ہے
خیر وہ ہنسنے لگی ہنستے ہوۓ بولی۔۔۔۔۔!!!
اے شاہ کاکو۔۔۔۔۔۔!!!!!!!
اگر میرے نصیب میں ایک ہے تو دو کردو اور اگر دو ہیں تو ایک
ان الفاظ کا سُننا تھا کہ کہ شاہ کاکو کا سر بے بسی سے جُھک گیا کہ میں نے کیا دعویٰ کردیا اور بآواز بلند لوگوں سے کہنے لگے
کہ سب کہو
"شاہ کاکو کا منہ کالا"
اسے کہتے ہیں اللہ سے تعلق
چلیے میں بات کو سرِ نقاب تو بیان کر دیا اب پسِ نقاب بیان کرتی چلوں
کیونکہ اصل دیدار اور حُسن ہوتا ہی پسِ نقاب ہے
پھر وہ چاہے کوٸی مجازیت کا روپ ہو،کوٸی کہانی ہو یا پھر حقیقی روپ
مجھے اصل نہیں معلوم مگر میرا تجزیہ جو کہتا ہے وہ یہ ہے
کہ شاہ کاکو کا اللہ سے تعلق تھا اور اسی تعلق نے رقاصہ کا چُھپا تعلق دیکھ لیا تھا اب مقصد رقاصہ کے تعلق کو لوگوں پر آشکار کرنا تھا
اسے کہتے ہیں اللہ سے تعلق
اس رقاصہ کا تعلق بحال تھا، مضبوط تھا،بس نِگاہ ہونا باقی تھی
اسی طرح ہم سب کا کہیں نہ کہیں اللہ سے ایک گہرا ربط اور تعلق ہوتا ہے
بس ہم اسے کوٸی Direction نہیں دے پارہے ہوتے
میرا اس بحث میں عام سے نقطے سے آغاز کر کے خاص پرختم کرنے کا مقصد یہ بتانا ہے
تعلق بڑے بڑے کام نہیں مانگتا وہ بس ایک ربط مانگتا ہے ایسا ربط جو کسی ایک پہلو سے ہر وقت اسکے ساتھ Connect رہے
ہم کیا کرتے ہیں بڑے لوگوں کے بڑے کام دیکھتے رہتے ہیں اور مایوس ہوکر خود کو explore ہی نہیں کر پاتے
ہم تعلق کے چھوٹے لیول سے بے خبر ہیں یا پھر ہمارے نزدیک ہوا میں اڑنا سمندر پہ چلنا دھوپ کو سایہ کردینا ہی تعلق ہے
نہیں وہ خود بہت بڑا ہے مگر ہمارے چھوٹے کاموں پر بھی اتنا خوش ہوتا ہے کہ انھیں بڑا کرنے کی ذمہ داری اپنے سر لے رکھی ہے
المختصر ۔۔۔۔۔۔!!!!!!!
اللہ سے تعلق وہ چیز ہے جو ہمیں آہستہ آہستہ تعلق سے لیکر قُرب تک پہنچا دیتی ہے
اسلیے explore کیجیے، جھانکیے، دیکھیے،ڈھونڈیے
دل میں ہی مندر ہے،دل میں ہی کعبہ ہے،یہیں دَیر ہے،یہیں حرم ہے
بس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم کس مقام کو سراۓ سمجھتے ہیں
اور کسکو کعبہ جان کر اپنا مسکن بنا لیتے ہیں
آخری ایک بات کرنا چاہوں گی
کہ اپنے غلطیوں کو اپنے سفر میں آڑے نہ آنے دیں
کیونکہ کسی بھی منزل تک پہنچنے کے لیے پہ پتھریلے، ریتلے اور بنجر علاقوں سے گُزرنا شرط ہے
اپنے آپ کو ایک Human being سمجھیں
بُہت شُکریہ
مزید تحاریر تک پہنچنے کے لیے ہمارا پیج وِزٹ کرتے رہیے
عنقریب ان شاء اللہ تمام اصلاحی لیکچرز اور ایسے ہی نقاط ریکارڈنگ کی صورت میں ویڈیو سکرین پر آٸینگے
نہیں ہے تیرا نشیمن قصرِ سُلطانی کے گُنبد پر
تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر
از قلم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔نفیسہ چوہدری

