اللہ سے تعلق قسط نمبردو

0

 آج کا موضوع ۔۔۔۔۔۔۔۔!!

           اللہ سے تعلق



اللہ سے تعلق کیا ہے؟ کیسے ہوتا ہے؟ کس نوعیت کا ہوتا ہے؟ کیسے پتا چلتا ہے کہ آپکا اللہ سے تعلق ہے 

آپ نے ہاتھ اٹھاۓ آسمان کی طرف دیکھا موسلا دھار بارش برسنے لگی ثابت ہوا آپکا اللہ سے تعلق ہے ایسا نہیں ہوا تو نہیں ہے 

ایسی ہی بہت سی کرامات آپکے ہاتھوں وقوع پذیر ہوٸیں تو آپکا تعلق ہے علاوہ ازیں تعلق نہیں 

یہ سارے مقامات اور یہ سارے امور اپنی جگہ۔۔۔۔۔آپکا اللہ سے تعلق ہے یہ آپکو خود سے پوچھنا ہے 

یہ اصطلاح زبان زدِ عام ہے 

من عرفَ نفسہٗ فقد عرف ربہٗ

یعنی جس نے خود کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا 

یہ بات ١٠٠ فیصد ہے

تو پھر چلیے دیکھتے ہیں ہمارا اللہ سے تعلق کتنا ہے؟ کہاں ہے؟ کیسا ہے؟

اپنی پہچان یہ نہیں کہ آپ مکمل طور پرہر نقطہ جان گۓ ہر راز سمجھ گۓ 

نہیں 

بلکہ کسی ایک پہلوکو پہچان لینا بھی پہچاننا ہی ہے 


آپ نے جھوٹ بولا

ہم عام اور سادہ سے نقطے سے آغاز کرینگے 

آپ نے جھوٹ بولا اگلے نے سچ مان لیا اب آپ اس سے الگ ہوۓ تو ایک عجب سی بے چینی نے آپکو گھیر لیا آپ میں ایک ہلچل سی بپاہوٸ آپ کو اپنے جھوٹ پہ ندامت ہے 

اب آپ نے اس ندامت کے پسِ پردہ وجوہات کوexplore کرنا ہے کہ ایسا کیوں ہوا کس وجہ سے یہ احساس ندامت ہے 

آپکو ڈر ہے یار اگر میراپول کُھل گیا تو کیا ہوگا 

میری شخصیت damage ہوگی میری شہرت کونقصان ہوگا 

لوگوں میں وقار مانند پڑ سکتا ہے

ان تمام صورتوں میں آپکا اللہ سے link انتہاٸ کمزور ہے 

کیونکہ آپکو تو لوگ ہی کارساز دِکھ رہے ہیں 

لیکن اسکے برعکس اچانک آپکو خیال آیا کہ میں نے جھوٹ بولا میرے اللہ کو دکھ ہوااسے بُرا لگا وہ ناراض ہوگا آپ نے چُپکے سے غیر محسوس انداز سے ہاتھ اٹھاۓ اسکے سامنے جوڑے اور آنکھیں موند لیں 

تو مان لیجیے نا۔۔۔۔۔۔۔!!!!کہ کہیں نہ کہیں آپ اس سے رابطے میں ہیں اب اس رابطے کے پیچھے پڑ جاٸیے اور اس تعلق تک پہنچ جاٸیے 


آپ نے کسی انسان کی دلآزاری کی ایک وقت گزرا آپکو اس احساس نے نڈھال کر دیا سوچا یار اسکا دل دکھا میں نے اللہ کے بندے کو اذیّت دی اب آپ اس چند وجوہات کی بنا پہ اس سے اپنی کیفیت نہیں بیان کرسکے مگر آپ نے آسمان کی طرف دیکھا اللہ سے معافی مانگی اس کے سامنے اپنی بے بسی کی پوٹلی رکھ دی 

مبارک ہو۔۔۔۔۔۔!!!!

آپکا اللہ سے تعلق بلاشبہ قاٸم ہے آپ بھی اللہ والے ہو

رات کے کسی پہر آپکی آنکھ کُھلی آپکو خیال آیا کہ چلو ٢ نفل ادا کر لوں اسکے سامنے اپنے پراگندہ حال پہ رولوں آپ اٹھے جاۓ نماز پہ گۓ اچانک کیفیت ایسی ہوٸ کہ ہچکی بندھ گٸ یہ سب اسلیے نہیں ہوا کہ آپ ایک ریگولر نمازی پرہیزگار ہیں بلکہ یہ سب ایک by chance طاری ہونے والی کیفیت تھی جسکا دورانیہ بے شک ٢٠ منٹ تھا 

لیکن آپ جان لجییے آپکا اللہ سے ایک عجیب تعلق ہے اور وہ تعلق اُستوار ہونے کے لیے بے تاب ہے 

آگے چلیے ۔۔۔۔۔۔!!!!!

اب آپ بڑے پیمانے پہ آجاٸیے 

آپ ایک بزنس مین ہیں کاروباری آدمی ہیں انتہاٸ شہرت کے حامل ہیں 

آپ ایک بہت ضروری میٹنگ میں بیٹھے ہیں لاکھوں کی ڈیلنگ اس ایک میٹنگ کی مرہونِ مِنّت ہے 

اچانک ایک پیغام ملتا ہے ایک عام سا غریب سا آدمی جس سے آپکو کوٸ فاٸدہ نہیں آپ کے دروازے پہ آیا ہے اسے آپ سے فی الفور مِلنا ہے 

آپ نے سب کچھ پسِ پُشت ڈالا اللہ کی خاطر باہر نکل کر اس آدمی سے ملے محبت دی اپناٸیت کا احساس دلایا 

تو لکھ کر رکھ لیں آپ اللہ سے تعلق کے اعلیٰ درجے پہ ہیں بس آپکی اپنے آپ سے آخری مُلاقات باقی ہے 


آپکی تذلیل کی جارہی ہے مگر آپ خاموش ہیں  آپ غلط ہیں لیکن کسی کے سامنے روۓ نہیں اسکا مستحق خالقِ حقیقی کو جان کر رات کے وقت اپنے کمرے میں اندھیرا کیے اسے سے اپنے رازو نیاز Share کیے جارہے ہیں 

سجدہ شکر ادا کیجٕیے آپکا اللہ سے لاجواب تعلق ہے 

آپ غلط نہیں مگر اپنی صفاٸ میں دلیل میں ایک لفظ نہیں بولے بس یہ بات بھی اپنے رب سے پوچھنا اور بتانا چاہتے ہیں 

تو 

That's the contact with Allah 

یہی اللہ سے تعلق ہے 

کوہِ طور شرط نہیں ہے 

شاعر لکھتا ہے 

میرے شوق کی یہیں لاج رکھ 

وہ جو طور ہے بہت دور ہے 

اللہ سے تعلق ایک کیفیت ہے ایک خاموش احساس ہے جو نظر نہیں آتا سرچ کرنا پڑتی ہے 

جب آپ خود سے پوچھیں گے آپکو لگے کہ ان وجوہات کی بنا پر آپ اسے رابطے میں ہیں تو پھر مزید قریب ہوجاٸیے اس خاموش رابطے سے نکل کر اسکے گھر جانا شروع کیجیے اس سے Meetings arrange کیجیے بہت جلد آپکو appointmnt مل جاۓ گی 

پھر اس تعلق سے ہر وقت لُطف ااندوز ہوں ہر وقت اس نشے میں سرشار رہیے 


نوٹ ۔۔۔۔!سلسلہ کلام ابھی جاری ہے 


✍🏻۔۔۔نفیسہ چوہدری

Tags

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)