گاؤں بھومن شاہ تحصیل دیپالپوراوکاڑہ بھومن شاہ کی تاریخ

0

بھومن شاہ گاوں تاریخ کے آئینہ میں بھومن شاہ کی تاریخ گاؤں بھومن شاہ تحصیل دیپالپوراوکاڑہ 



شہر دیپالپور سے تقریباً 17 کلومیٹر کی مسافت پر واقع بھومن شاہ کا قلعہ، دیپالپور کی تاریخی یادگاروں میں سے ایک ہے۔

یہ قلعہ خوبصورت اور قابلِ دید عمارات پر مشتمل ہے جس کو دیکھنے والا فنِ تعمیر کے اس شاہکار کو داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔

یہ قلعہ دیپالپور کے تاریخی اثاثوں میں سے ایک ہے مگر اندرون شہر دیپالپور کے قلعے کی طرح یہ قلعہ بھی محکمہ آثارِ قدیمہ کے غیر ذمہ دارانہ رویے اور دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے خستہ حالی کا شکار ہوکر اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔

قلعہ کی تاریخ سے پردہ اٹھانا تو مشکل ہے کیونکہ اس کا کوئی قابلِ اعتبار ریکارڈ ہمارے پاس موجود نہیں تاہم اس قلعے کی بناوٹ اور طرزِ تعمیر سے اس کے ماضی کی ایک جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔




کہتے ہیں کہ یہ قلعہ ایک سکھ، جس کا نام بھومن شاہ (اصل نام بھومیا) تھا، کے نام سے منسوب ہے مگر غور کریں کہ لفظ "شاہ" تو مسلمان سید زادوں کے لیے استعمال ہوتا ہے تو عین ممکن ہے کہ شاید یہ کسی بزرگ (شاید ولی اللّہ)کا نام ہی ہو۔ قلعے کی تعمیر کو دیکھ کر یہ اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ یہ قلعہ حفاظتی انتظامات کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا تھا۔ قلعے کے گیٹوں پر نوکیلے لوہے کے کِیل ظاہر کرتے ہیں کہ یہ بیرونی حملہ آوروں (خصوصاً ان کے ہاتھیوں) کو روکنے کے لیے بنائے گئے تھے۔

قلعے کے اندر ایک گردوارہ بھی موجود ہے مگر اس گردوارے کے اندر ہندوؤں کی مقدس مورتیوں اور دیوتاؤں کی پینٹنگ زیادہ ہیں جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مندر تھا مگر مشہور یہ ہی ہے کہ یہ ایک گردوارہ ہی تھا۔  ان پینٹنگز سے قلعے کی تاریخ سے متعلق اور بھی بہت کچھ جانا جاسکتا ہے۔

اس گردوارے کے بالکل ساتھ انگریز دورِ حکومت کی ایک عمارت بھی موجود ہے۔غور طلب بات یہ ہے کہ اس عمارت کی تختی پر لکھے اردو متن کے مطابق شریمان باوا چتر داس جی نے یہ عمارت 939ء میں تعمیر کروائی جو کہ سراسر غلط لکھا ہے کیونکہ اس تختی پر لکھے ہوئے ہندی زبان کے متن کو ہم نے ایک بھارتی دوست کی رہنمائی لے کر پڑھا جس کے مطابق یہ عمارت شریمان باوا چتر داس جی نے 1883ء میں تعمیر کروائی تھی، مگر اب اس عمارت کا زیادہ تر حصہ بھی  تعمیر نو سے گزر چکا ہے۔

قلعہ کی زیادہ تر اور خوبصورت عمارتیں اب مقامی لوگوں کی رہائش گاہوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ صرف چند عمارتیں ہی سیاحوں کے لیے اوپن ہیں مگر افسوس وہاں پر بھی آپ کو کوڑے کرکٹ کے بڑے بڑے ڈھیر دیکھنے کو ملتے ہیں۔

بھومن شاہ کا قلعہ دیپالپور کی خوبصورت عمارتوں میں سے ایک ہے۔ مطالعہِ تاریخ کے شیدائیوں کو ضرور دیکھنے جانا چاہیے۔ میرے خیال کے مطابق حکومتی اداروں اور محکمہ آثارِ قدیمہ کا بھومن شاہ اور دیپالپور اوکاڑہ کے دیگر تاریخی مقامات اور قلعوں کی طرف توجہ نہ دے کر اوکاڑہ اور دیپالپور کے اثاثوں پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔ اگر بروقت ان قلعوں اور تاریخی عمارات کی حفاظت کے لیے اقدامات اٹھائے جاتے تو شاید ہمارے شہر کی پہچان ہی کچھ اور ہوتی۔ 



خیر قلعہ کے متعلق جو کچھ لکھا وہ سارا ذاتی مشاہدات پر مبنی ہے، غلطی تو متوقع ہے مگر امید ہے کہ حقیقت کے کہیں قریب ضرور ہوگا۔

قلعہ کی چند جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں اور اپنی رائے سے ضرور آگاہ فرمائیں۔

اللّہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین 🌹

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)