قلب المؤمن عرش اللّٰ

0

 

قلب المؤمن عرش اللّٰہ


حدیث قدسی ھے رب العالمین فرماتے ھیں

لا یسعنی آرضی ولا سمائی ولکن یسعنی قلب عبدی المؤمن

میری زمین اور میرے آسمان مجھے اپنے اندر نہیں سما سکتے مگر میرے بندہ مومن کا دل مجھے سما سکتا ھے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام اللّٰہ کریم کی بارگاہ کے اندر عرض کرتے ھیں

یا رب این اطلبک


اے میرے رب میں تجھے کہاں پہ تلاش کروں۔

تو رب العالمین نے فرمایا

انا عند المنکسرۃ قلوبھم

میں بے سہارا لوگوں کے دلوں میں بستا ھوں۔

                                   مجھے تلاش کرنا ھے تو ان بے سہارا لوگوں کے دلوں میں تلاش کر ،جن کا اس کائنات کے اندر میرے سوا کوئی سہارا نہیں ،دنیا کے دکھوں اور غموں نے گھیر رکھا ھے۔

                                اور حضرت بایزید بسطامی کی حالت ایک مرتبہ عجیب ھوئی آنکھوں سے خون کے آنسو نکلنے لگے ،دل میں محبوب کی یاد نے بےقرار کیا ،اور آنکھوں میں محبوب کے دیدار کی تڑپ نے ستایا،تو محبوب کے دیدار کی خاطر ایک قدم اٹھایا تو فرش سے عرش پہ جا پہنچے اور عرض گزار ھوے

الرحمن علی العرش استوی

مجھے اپنے دیدار سے مشرف فرمائیے۔

                                              تو عرش سے آواز آئ کہ واہ عرش والوں کو خبر دی گئ کہ محبوب تو فرش پہ جلوہ فرما ھے اور فرش والے عرش پہ تلاش کر رھے ھیں۔

یہ تو ایک عام مومن کے دل کی حالت ھے کہ جس کے بارے میں رب فرما رہا ھے کہ مجھے اس دل کے اندر تلاش کرو۔

تو اس دل کی کیا شان ھوگی کہ جس دل کی حفاظت کرنے والے سینے کی الم نشرح لک صدرک۔کے زریعے ،تذکرے قرآن کے اندر کیے جا رھے ھیں۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی ،پیارے آقا کریم علیہ التحیۃ والتسلیم کے سر کے بالوں سے لیکر پاؤں کے ناخنوں تک تعریفیں لکھتے مگر جب آپ کے قلب اقدس پہ پہنچتے تو قلم رک جاتا اور عرض گزار ھوتے کہ جس محبوب کے سر کے بالوں کی اور پاؤں کے ناخنوں کی تعریف کا حق ادا نہیں ھو سکتا تو میں قلب اقدس کی تعریف کیسے کروں کہ جس قلب اقدس پہ رب العالمین نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کے زریعے وحی نازل فرمائ،یعنی کہ جس قلب اقدس میں قرآن ٹھہرا ،اس قلب اقدس کی تعریف کا حق کیسے ادا ھو سکتا ھے۔

حدیث طیبہ

سرکار دو عالم نور مجسم جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرماتے ھیں

ان اللّٰہ لا ینظر الی صورکم ولا الی اعمالکم ولکن ینظر الی قلوبکم و نیاتکم

اللہ تبارک و تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے اعمال کی  طرف نہیں دیکھتا بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ تمہارے دلوں اور تمہاری نیتوں کو ہر وقت دیکھ رہا ھے۔

                                      صورتیں ہماری جتنی بھی خوبصورت ھوں اور نمازیں چاہے جتنے بھی زیادہ ھوں جب تک اخلاص للہ نہیں ھوگا سب کچھ نامنظور اور اگر ریاکاری شامل ھو جاۓ تو یہ عبادت بھی منہ پہ مار دی جاے گی۔

اس حدیث طیبہ کے اندر ینظر فعل مضارع کا صیغہ بتا رہا ھے کہ رب العالمین اپنے بندے کے دل کی طرف دیکھ رہا ھے۔

آج ہمارے معاشرے کے اندر اگر ہمارے گھر کے اندر ایک مہمان بھی آتا ھے تو گھر کو اچھی طرح سے صاف ستھرا کیا جاتا ھے کہیں مہمان کے سامنے شرمندہ نہ ھونا پڑے حتی کہ باتھ روم بھی صاف کیے جاتے ھیں۔

                                              مگر وہ رب جو اپنے بندے کے دل کی طرف ہر وقت دیکھ رہا ھے اس کی خاطر ہم اپنے دل کو حسد ،کینہ ،بغض ،دشمنی ،لالچ اور اس جیسی دوسری بیماریوں سے کیوں نہیں پاک کر سکتے؟

                آج اگر ھم چاہتے ھیں کہ ہمارے دل بھی عرش خدا بن جائیں،تو ھمیں اپنے دلوں کو پاک اور صاف رکھنا ھوگااور جب ہمارے دل پاک اور صاف ہو جائیں گے تو ہمیں محبوب کے دیدار کی خاطر نظروں کو اٹھانا نہیں بلکہ جھکانا پڑے گا اور جونہی جھکائیں گی محبوب کا دیدار ھو جاۓ گا۔

بنی اسرائیل کا ایک شخص رب کی بارگاہ میں عرض کرتا ھے کہ

یا رب کم اعصیک ؟و انت لا تعاقبنی

اے میرے رب میں تیری کتنی نافرمانی کرتا ھوں مگر تو مجھے سزا نہیں دیتا

تو رب العالمین نے اس دور کے نبی کو وحی فرمائ کہ اس بندے کو جا کے بتا دے

ان جمود عینیک و قساوۃقلبک استدراج منی و عقوبۃ

اتنے گناہ کرنے کے باوجود تیری آنکھوں سے آنسوؤں کا نہ بہنا اور تیرے دل کا اتنا سخت ھو جانا ،کیا اس سے بھی بڑی کوئ سزا ھو سکتی ھے۔اگر توعقل رکھتا ھے تو یہ تیرے لیے سب سے بڑی سزا ھے۔

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)