ضیاء التہذیب على شرح التهديب
محمد اعجاز حسین گوندل
صبح نور پبلی کیشنز، اردو بازار لاہور
انتساب
پیکر اخلاص ، مرقع جمال مجسم وفا
استاذ العلماء شیخ الحدیث حضرت علامہ عبدالرزاق صدیقی دامت برکاتہم العالیہ کی محبتوں شفقتوں کی نذرجنہوں نے اپنی کمال مہربانی اور کریم نفسی سےمجھ ناچیز کورموز منطق سے شناسائی بخشی۔
گر قبول افتد زہے عز و شرف
نیازکیش
غلام مصطى القادری
خاکپائے ضیاءالامت
تعارف مصنف
نام ونسب
نام مسعود، لقب سعد الدین ،والد کا نام عمر اور لقب قاضی فخرالدین ، دادا کا نام عبداللہ اور لقب برہان الدین تھا۔
پیدائش و وطن
خراسان کے شہرنسا کے گاؤں تفتاز ان کے ایک علمی گھرانے میں صفر722ھ میں پیدا ہوئے ، اس لیے تفتازان کہلاتے ہیں۔ والد عالم اور قاضی تھے۔ علامہ تفتازانی امام ، فقیہ متکلم، اصولی نحوی، بلاغی اور منطقی تھے۔ نحو صرف منطق، معانی، بیان
اصول تفسیر کلام اور دیگر کئی علوم میں ماہر تھے ۔ مذہب شافی و حنفی دونوں پرفتوی دیتے تھے۔
وفات و مدفن
۲۲ محرم الحرام 792ھ کے روز انتقال فرمایا۔ سمرقد میں انتقال ہوا اور وہیں دفن کیے گئے، پھر ۹ جمادی الاولی بدھ کے
روز مقام سختی کی طرف منتقل کردیئے گئے۔تصانیف:
آپ کی مشہور تصانیف یہ ہیں:
1 شرح تصريف زنجانی
2 ارشادالهادی
2المطول
3 مختصر المعاني
4التلویح
5الحاشیہ علی الکشاف
6السعدیہ شرح الرسالة الشمسیہ
7تہذیب المنطق والكلام
8 شرح العقائدنفسی
9 المقاصد
10 شرح المقاصد
ان میں المطول ، التلویح مختصر المعانی ، شرح العقائد اور تہذیب المنطق والكلام پانچ کتابیں مدارس اسلامیہ کے نصاب میں شامل ہیں۔یہ صرف علامہ تفتازانی ہی کااعزازہے۔
شامل ہیں، صرف علام تفتازانی بی کا اعزاز ہے۔

