خاصکی خرم سلطان:
(Haseki Hurrem Sultan)
سلطان سلیمانِ اعظم (Sultan Suleman Magnificent) کی محبوب زوجہ'خرم سلطان' خاندانِ آلِ عثمان کی خواتین میں نمایاں نام رکهتی ہیں. آپ سلطان سلیم دوم کی والدہ بھی ہیں.
پیدائش، نام اور علاقہ:
خرم سلطان 1502ء سے 1504ء کے درمیان پولینڈ کے علاقے روہاتین (Rohatyn) میں پیدا ہوئیں. آج کل یہ شہر یوکرائن (Ukrine) میں شامل ہے. آپ کا پرانا مذہب عیسائیت تها. تاتاریوں نے ایک جنگ کے دوران انہیں گرفتار کیا اور ایک کنیز اور غلام کے طور پر عثمانیوں کے حوالے کیا. اس وقت اس کا نام خرم نہیں تها. نام کے بارے میں کچھ اختلافات پائے جاتے ہیں. کچھ کے مطابق خرم کا پرانا نام روکسلانہ (Roxelana) ہے اور کئی کے مطابق الیگزینڈرہ (Alexandra) ہے. چند تایخ دانوں کے مطابق روکسلانہ کا پیدائشی مکمل نام الیگزینڈرا روسلانہ لیسوسکا (Aleksandra Ruslana Lisowska) ہے. تو اسی مناسبت سے لوگ "Alexandra Laruse" بهی کہہ دیتے ہیں. لیکن روکسلانہ پر زیادہ تر تاریخ دان رضامند ہیں. روکسلانہ کا باپ ایک کیتھولک عیسائی پادری تها.
خرم اور سیلمان:
1520ء میں سلطان سلیمان تخت نشین ہوئے اور منیسا ریاست سے استنبول پہنچے. سلیمان کی کنیزوں میں گل بہار سلطان (ماہ دوراں) اور گلفام خاتون موجود تهیں. لیکن اس کنیز روکسلانہ نے بہت جلد سلیمان کی توجہ حاصل کی اور بہت ہی کم عرصے میں سلطان کی محبوب ترین کنیز بن گیئیں. دوسری طاقتور عورت ماہ دوراں تھی، سلطان سلیمان کے بڑے بیٹے، شہزادہ مصطفی کی ماں! مگر خرم سلطان کی آمد نے سب کچھ بدل ڈالا. مورخین لکھتے ہیں کہ خرم خوبصورت تو تھی ہی، لیکن سلطان سلیمان اس کی ذہانت ،حسِ مزاح اور ہنس مکھ طبیعت سے متاثر ہوئے. ہمہ وقت مسکرانے کے باعث ہی سلطان اسے ’’خُرم‘‘ (خوش، شادماں) کہہ کر پکارنے لگے. (یہ فارسی لفظ کا لفظ ہے. ترکی میں مصطفی کمال کی حکومت آنے کے بعد ’’حوُرم‘‘ کہلایا جو اصل نام کی بگڑی شکل ہے لیکن اردو میں ہم ابھی بھی خرم کہیں گے) بہرحال خرم نے جلد اپنی میٹھی میٹھی باتوں اور دلفریب اداوں سے سلطان سلیمان کے دل میں جگہ بنا لی.
خرم سلطان سے اولاد:
1) خرم سلطان سے سلطان سلیمان کو پہلی اولاد شہزادہ محمد (Şehzade Mehmet) ہوئی. محمد کی پیدائش کے بعد خرم کی اہمیت مزید بڑھ گئی. شہزادے محمد 1521ء میں پیدا ہوئے. سلطان سلیمان اپنے اس بیٹے کو بے انتہا پسند کرتے تھے. تاریخ دان اس بات پہ یقین رکھتے ہیں کہ شہزادے محمد میں اپنے بڑے بھائے مصطفی جیسی تمام خوبیاں موجود تھیں. مصطفی کے ساتھ محمد کے اچھے تعلقات بھی تھے اور یہاں تک کہ شہزادے محمد اپنا آئیڈیل مصطفی کو سمجھتے تبے. کئی تاریخ دانوں کے مطابق محمد، مصطفی سے زیادہ ذہین تھے. سلطان سلیمان نے تو انہیں اپنا جانشین بنانے کا سوچ رکھا تھا. مانیسا ریاست میں گورنر تعینات بھی کیا. محمد نے کچھ جنگوں میں سلطان سلیمان کا ساتھ بھی دیا. لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا. نومبر 1543ء میں 21 یا 22 سال کی عمر میں شہزادے محمد کا انتقال ہو گیا. سلطان سلیمان نے اپنے اس بیٹے کی یاد میں شہزادہ مسجد تعمیر کروائی. محمد چیچک کے مرض میں مبتلا تھے.
2) مہر ماہ سلطان، خرم سلطان کی اکلوتی بیٹی ہیں. ایک ذہین خوبرو، بے حد رحمدل شہزادی مہرماہ سلطان 1522ء میں پیدا ہوئیں. (مہر ماہ سلطان پر تفصیل میں ہمارے پیج پر پوسٹ موجود ہے)
3) شہزادہ سلیم جو کہ بعد میں سلطان سلیم دوم بنے، خرم سلطان کی تیسری اولاد ہیں. شہزادے سلیم 1524ء میں پیدا ہوئے. اور سلطان سلیمان کے بعد سلطان بنے. آپ نے 8 سال حکومت کی. تاریخ دانوں کے مطابق شہزادے محمد کی وفات کے بعد سلیم ہی خرم سلطان کے سب سے محبوب بیٹے رہے ہیں.
4) شہزادہ بایزید، خرم سلطان کے جوشیلے اور جنگ آور بیٹے کے طور پر جانے جاتے ہیں. آپ 1525ء میں پیدا ہوئے. آپ سلیمان کی اولاد میں سے سب سے خوبرو اور وجیح شہزادے تھے. لیکن ان کے خون میں غصہ اور گرمی زیادہ تھی. تخت کی خاطر خانہ جنگی کی. لیکن فوج کی کمی کی وجہ سے ہار گئے. ایران میں پناہ لی. سلطان سلیمان نے کسی طرح انہیں وہاں سے حاصل کر کے مروا دیا . بغاوت کی سزا موت ہے.
5) شہزادے جہانگیر، آپ 9 دسمبر 1531ء میں پیدا ہوئے. خرم کے سب سے چھوٹے بیٹے ہیں. آپ ایک معذور شہزادے تھے. آپ کبڑے تھے. لیکن ذہین اس قدر کہ اپنے سب بھائیوں کو ذہانت میں مات دیتے تھے. اپنے بھائی مصطفی سے بے حد محبت کرتے تھے. اتنی کہ ان کے قتل کے بعد اس قدر غم زدہ ہوئے کہ کچھ دن بیمار رہ کر انتقال کر گئے.
کچھ تاریخ دان کہتے ہیں کہ سلیمان کے ایک بیٹے عبداللہ بھی خرم سلطان کی اولاد تھے جو بچپن میں فوت ہوئے لیکن یہ اندازے کی باتیں ہیں.
سلطان سلیمان کی خرم سلطان سے محبت:
خرم سلطان سے بلا شبہ سلطان سلیمان بے حد محبت کرتے تھے. اور اس کا ثبوت سلطان سلیمان کی شاعری ہے. سلطان سلیمان ایک عمدہ شاعر تھے. شاعری میں اپنا تخلص "محبی" (Muhibbi) استعمال کرتے تھے. آپ کے شاعری میں خرم سلطان کی تعریف پائی جاتی ہے. یہی وجہ ہے کہ سلطان سلیمان نے پہلے خرم سلطان کو آزاد کیا اور ان سے نکاح کیا.
خرم سلطان کا سلطنت کے معاملات میں کردار:
کہا جاتا ہے کہ سلطان سلیمان اکثر اوقات اپنے فیصلوں میں خرم سلطان سے مشورہ لیا کرتے تھے. لیکن براہ راست خرم سلطان کی سیاست میں بہت سی من گھڑت باتیں مشہور ہیں. جیسے کہ کہا جاتا ہے کہ خرم سلطان کا رستم پاشا یعنی اپنے داماد کو وزیر اعظم بنانے میں بہت ہاتھ ہے. احمد پاشا کی پھانسی میں خرم کی سازشیں ہیں. تو عرض ہے کہ یہ افواہیں ہیں. خرم سلطان کے مشوروں کو سلطان سلیمان نے ہمیشہ اہمیت دی. اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا. تو یہ ممکن ہے کہ رستم پاشا کو وزیر اعظم بنانے میں خرم کے مشورے شامل تھے. یعنی کہنے کا مطلب یہ ہے خرم سلطان صیحح معنوں میں سلطان سلیمان کی ہم سفر تھیں. لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یورپی مصنفین نے ہمیشہ بات کا بتنگڑ بنا کر پیش کیا. خرم سلطان کو سازشی ترین قرار دے دیا. سلطان سلیمان کو خرم کا کٹھ پتلی بنا دیا. لیکن یہ صرف من گھڑت باتیں ہیں.
خدمات اور کام:
خیراتی کاموں میں خرم سلطان کا کوئی ثانی نہیں تھا. آپ نے سب سے پہلے حجاز میں پانی کی سبیلوں کے لیئے اپنے ذاتی دولت پیش کی. استنبول میں بے شمار کام کروائے. آپ عثمانی سلطنت کی پہلی خاتون تھیں جس نے اپنی ذاتی دولت عوام کے لیئے پیش کر دی. ایک سوپ باورچی خانہ جس میں لوگوں کو صبح شام مفت کھانا دیا جاتا تھا. ہسپتال، مدارس، فوارہ اور حمام تعمیر کروائے. آپ کے ان خیراتی کاموں کی وجہ سے آپ کی بیٹی مہرماہ بھی آپ کے رستے پر چل پڑیں یہاں تک کہ آپ کے داماد رستم پاشا بھی مرنے سے پہلے اپنی تمام دولت خیرات کر گئے. خرم سلطان کے طبی مرکز میں مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا تھا. حمام عوام کے لیئے مفت تھا. یہ تمام عمارات آج بھی استنبول میں موجود ہیں. لوگ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں. کیا یہ سب خرم سلطان کے لیئے صدقہ جاریہ نہیں ہے؟
خرم سلطان کی ذات پر جھوٹ اور سچ؟
اس بات کا پہلے بھی کئی بار تذکرہ ہو چکا ہے کہ عثمانیوں پر الزامات کی بوچھاڑ کرنے میں یورپی مصنفین پیش پیش رہے ہیں. یہ خرم سلطان کی بدقسمتی ہے کہ اپنی شہرت کے باعث مغربی مصنفین کا محبوب موضوع بن گیئیں. پھر انہوں نے نے کئی خیالی قصے تخلیق کر ڈالے. افسوس کی بات ہے کہ ہم میں سے اکثر بغیر تصدیق کے یقین کیئے جاتے ہیں. کچھ میرا سلطان یعنی 'Muhteşem Yüzyıl' نے بھی لوگوں میں فکشن بھرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا. لوگ حقیقت سے دور ہوتے گئے.
پہلے بات کی جاتی ہے ان فضول باتوں کی جو ڈرامہ سے ہٹ کر کی جاتی ہیں....
۱) کچھ عقل کے دشمن یہ بڑک ہانکتے ہیں کہ خرم تو جادوگرنی تھی جس نے سلیمان پر جادو کیا اور سلطنت پر قبضہ کرنے کی کوشش کی. یہ ایک فضول بات ہے. جس میں ذرہ برابر سچائی نہیں ہے.
۲) خرم سلطان کی ذات پر یہ الزام دھر دیا جاتا ہے کہ وہ سلطان سلیمان کو بہکاتی تھی. جس بہکاوے میں آ کر ابراہیم پاشا اور شہزادے مصطفی کی جان لی گئی. اطلاع کے لیئے عرض ہے کہ مصطفی اور ابراہیم نے اپنی غلطیوں کی وجہ سے اپنی جان گنوائی.
۳) کہنے والے یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ خرم سلطان نے زبردستی مہرماہ سلطان کی شادی رستم سے کروائی کہ وہ اسے اپنا وفادار سمجھتی تھی اور اعلی عہدے پر دیکھنا چاہتی تھی. لیکن یہ زبردستی کی شادی نہیں تھی. مہرماہ سلطان کی شادی اپنی مرضی سے ہوئی.
میرا سلطان (Mühteşem Yüyıl) اور حقائق:
پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ یہ ٹی وی سیریز 90 فیصد فکشن پر مبنی ہے. لیکن افسوس تب ہوتا ہے کہ جب لوگ اسے تاریخی کرادر سے ملاتے ہیں. اس ڈرامے کو بنانے والے خود اس بات کو کہتے ہیں کہ اس کا تاریخ سے کوئی تعلق نہیں تو ہم سچ کیون سمجھتے ہیں؟
ڈرامے میں بے شک ان گنت باتیں من گھڑت ہیں لیکن جو اہم ہیں ان کا ذکر کرنا مناسب ہو گا.
> خرم سلطان کا سلطان سلیمان کی کسی بھی بہن سے ایسا جھگڑا نہیں تھا جیسا دکھایا گیا. خدیجہ سلطان کی شادی ابراہیم پاشا سے ہوئی، یہ بات بھی یقینی نہیں ہے. البتہ سلطان سلیمان کی دیگر کنیزوں سے خرم کا حسد یقینی بات ہے. جیسا کہ ماہ دوراں سلطان سے. لیکن ڈرامہ جس قدر سازشوں سے بھرپور ہے ویسا نہیں تھا.
> خرم سلطان کا ابراہیم پاشا سے کوئی جھگڑا نہیں تھا. ابراہیم سلیمان کا چہیتا وزیر تھا لیکن بے شمار اختیارات کی وجہ سے وہ تکبر کا شکار ہوا. یہاں تک کہ اپنے نام کے ساتھ سلطان کا لفظ استعمال کیا. سلطان سلیمان نے اسے قتل کروا دیا. خرم کا جس سے کوئی تعلق نہیں تھا.
> شہزدے مصطفی بے شک سلطان سلیمان کے بے حد قابل بیٹے تھے. لیکن باغی گروہ کو مثبت پیغام دیا. جس وجہ سے اس کی جان لی گئی. خرم سلطان کی سازش جیسے ڈرامہ میں دکھائی گئی. ویسا چند یورپی مصنف کہتے ہیں.
> خرم سلطان کا لیو (Leo) نامی مصور سے کوئی محبت کا چکر تاریخ کے گوشے میں نہیں ہے. یہاں پھر سے TIMS بے شمار فکشن پیدا کرتا ہے.
> خرم سلطان جتنی بار ڈرامے میں اغوا ہوتی دکھائی گئی ہیں وہ سب من گھڑت قصے ہیں. ایک بار تو TIMS نے خرم کے رول کے لیئے اداکارہ تبدیل کرنے کے لیئے یہ قصہ تخلیق کیا.
اس کے علاوہ بے شمار باتیں ایسی ہیں جو تاریخ میں نہیں ہیں.
خرم سلطان کی وفات:
خرم سلطان 15 اپریل 1558ء کو وفات پا گیئیں. آپ اگر سلطان سلیم دوم کے سلطان بننے تک زندہ رہتیں تو بے شک ایک طاقتور والدہ سلطان بنتیں. لیکن آپ نے ایک نئی رسم شروع کروا دی سلاطین اپنی کنیزوں سے شادی بھی کرنے لگے. سلطنت میں خواتین کا عمل دخل بھی شروع ہوا. لہذا خرم سلطان بعد میں آنے والی تمام خاصکی سلطان بننے والی خواتین کے لیئے رول ماڈل بن گیئیں. کہا جاتا ہے کہ خرم سلطان کی انگوٹھی آپ کی وفات کے بعد نسل در نسل چلتی رہی.
بے شک خرم ایک غیر معمولی عورت تھی...!
فلمو گرافی:
2003ء میں 8 اقساط پر مبنی ایک ٹی وی سیریز بنائی گئی. جو خرم سلطان پر مبنی تھی.
2013ء میں مشہور زمانہ 'Mühteşem Yüzyıl' میں خرم سلطان کا ایک اہم کردار تھا.
خاصکی خرم سلطان
May 20, 2021
0
